بیت[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - شعر، وہ دو مصرعے جن کا وزن ایک اور مضمون مربوط ہو۔ "چشم دل خوننابہ چکاں تھی اور یہ بہت ورد زباں تھی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٦ ) ٢ - (قدیم) سطر (شعرالعجم، 138:2) "یہاں ابیات بمعنی اشعار کے نہیں ہے بلکہ مراد سطور سے ہے جو مطابق اصطلاح کاتبوں کے ایک مقدار معین کا نام بیت ہے . اور بقدر ایک سو حرف کے عین مطابق ہے۔"      ( ١٩٠٢ء، مرآۃ الحقائق، ٤٠ )

اشتقاق

عربی زبان میں ثلاثی مجرد کے باب سے مشتق اسم ہے۔ اردو میں اصل معنی و ساخت کے ساتھ بطور اسم استعمال ہوتا ہے۔ ١٦٣٩ء کو "طوطی نامہ" میں غواصی کے ہاں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - شعر، وہ دو مصرعے جن کا وزن ایک اور مضمون مربوط ہو۔ "چشم دل خوننابہ چکاں تھی اور یہ بہت ورد زباں تھی۔"      ( ١٩٠١ء، الف لیلہ، سرشار، ٥٦ ) ٢ - (قدیم) سطر (شعرالعجم، 138:2) "یہاں ابیات بمعنی اشعار کے نہیں ہے بلکہ مراد سطور سے ہے جو مطابق اصطلاح کاتبوں کے ایک مقدار معین کا نام بیت ہے . اور بقدر ایک سو حرف کے عین مطابق ہے۔"      ( ١٩٠٢ء، مرآۃ الحقائق، ٤٠ )

اصل لفظ: بیت
جنس: مؤنث